ایک غریب دیہاتی کے پاس گدھا تو تھا مگر پالان ( وہ گد گدا کپڑا جو گدھے کی پیٹھ کے بچاؤ کے لیے اس کی پشت پر ڈالتے ہیں) نہیں تھا۔ بے چارہ ہمیشہ اسی فکر میں رہتا کہ کسی طرح پالان بن جائے۔ بڑی مدت کے بعد اس کی آرزو پوری ہوئی او اس نے پالان حاصل کر لیا لیکن اسی وقت اس کا گدھا ایک بھڑئیے کا شکار بن گیا۔ سچ ہے کہ انسان تدبیر کرتا ہے اور تقدیر اس پر ہنستی ہے۔